بنگلورو،27؍اگست (ایس او نیوز) کرناٹک میں بی جے پی کے اقتدار پر آنے کے پورےا یک ماہ بعد بی جےپی کے نئے وزیروں کو قلمدان تقسیم کئے گئے اور ایک ہفتہ قبل حلف لینے والے سبھی 17 اراکین کو کام کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس سے پہلے قلمدانوں کی فہرست گورنر وجوبھائی والا کو بھیجی گئی تھی جنہوں نے اسے منظوری دے دی تھی۔
یڈیورپا کا وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لے کر ایک ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے، آج کابینہ میں شامل 17اراکین کو جب قلمدان تقسم کیے گئے تو اس سے یڈی یورپا کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے قبل نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر مسئلہ کھڑا ہوگیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ریاست میں نائب وزیر اعلیٰ کے عہدوں کے لیے ہائی کمان کی جانب سے ہدایت دی گئی تھی، لیکن کس کو یہ عہدے دیئے جائیں اور کس کو کتنے عہدےدئے جائیں، اس کی تفصیلات نہیں دی گئی تھی ۔
کابینہ میں شامل ہونے والے 17اراکین میں متعدد سینئر اراکین ہیں، ان کو چھوڑ کر اگر ذات پات کی بنیاد پر جونیئر اراکین کو نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا جائے گا تو اُن میں ناراضگی پیدا ہونا یقینی تھا اس کے باوجود آج گووند کارجول، ڈاکٹر اشوتھ نارائن، لکشمن سوادی کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے۔ سینئر اراکین کو انظرانداز کرنے پر وزیراعلیٰ یڈیورپا مشکلات میں پھنس گئے ہیں۔
26/ جولائی کو یڈیورپا نے حلف لیا تھا۔ قلمدانوں کی تقسیم میں تاخیر سے اپوزیشن پارٹیاں تنقید کررہی تھیں۔ یڈیورپا کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کا راستہ آسان نہیں ہواہے۔ پارٹی کے اندر ان کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ نااہل اراکین کی سپریم کورٹ میں عرضی کی سماعت، حکومت پر ہائی کمان کی مضبوط گرفت، نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے قائم کرنا سمیت متعدد چیلنج تھے۔ اس دوران سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے پیر کے دن ایک نیا دھماکہ خیز بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی وقت وسط مدتی انتخاات ہوسکے ہیں، اس لیے پارٹی والوں کو تیاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ باغی اراکین کو ساتھ لے کر بہت دنوں کو حکومت نہیں چلا سکتے۔
قلمدانوں کی تفصیل اس طرح ہے:
1)گووند کارجول (نائب وزیر اعلیٰ، تعمیرات عامہ سماجی بہبود)
2) ڈاکٹر اشوت نارائن (نائب وزیر اعلیٰ، اعلیٰ تعلیم اور آئی ٹی بی ٹی، سائنس اینڈ ٹکنالوجی)
3) لکشمن سوادی (نائب وزیر اعلیٰ اور ٹرانسپورٹ)
4) کے ایس ایشورپا (پنچایت راج)
5) جگدیش شٹر (بڑی اور درمیانی صنعتیں)
6) آر اشوک (وزیر محصولات)
7) بی شری راملو (صحت اور خاندانی بہبود)
8) سریش کمار (پرائمری اور سیکنڈری تعلیم)
9) وی سومنا (ہاؤزنگ)
10) سی ٹی روی (سیاحت)
11) بسوراج بومئی (وزیر داخلہ)
12) کوٹا سرینواس پجاری (مزرائے، ریوینو، ماہی گیری)
13) جے سی مادھو سوامی (قانون اور پارلیمانی امور)
14) ایچ ناگیش (آب کاری)
15) پربھو چوہان (مویشی پالن)
16) شریمیتی ششی کلا جولے (بہبودی خواتین و اطفال
17) سی سی پاٹل (کان کنی اور ارضیات)